ابن طفیل کا ناول ” حئ ابن یقزان ” – مستنصر حسین تارڑ

امریکی آئل کمپنی آرامکو کی جانب سے ایک تحقیقی مجلہ ” سعودی آرامکو ورلڈ ” نام کا شائع ہوتا ہے جس میں دنیا بھر کے اسلامی محققین کے نہایت نایاب مضامین شائع ہوتے ہیں ، فوکس مسلمان تہذیب پر ہے اور کسی طرح یہ باقی دنیا پر اثر انداز ہوئی ،

اس کا ہر مضمون اس لائق ہوتا ہے کہ اسے نصاب میں شامل کیا جائے تا کہ ہماری نئی نسل جان سکے کہ مذہبی تعصب سے بالاتر اسلام کی ایک ایسی روشن خیال تہذیب اور علمی وراثت ہے جس نے پوری دنیا کے اذہان کو متاثر کیا ہے۔۔۔موجودہ شمارے میں ایک مضمون صرف اُن پھولوں کے بارے میں ہے جو مسلمان ملکوں میں مدتوں سے اگائے جاتے تھے اور پھر انہیں یورپ میں رائج کیا گیا۔۔۔ افریقی مسلمان ملک چڈ کے صحراؤں میں تازہ پانیوں کی جھیلوں کی حیرت انگیز تصاویر ہیں۔۔۔ پولینڈ میں صدیوں سے آباد تاتار مسلمانوں کے بارے میں ایک دلچسپ رپورٹ ہے۔۔۔لیکن اس شمارے کا سب سے اہم مضمون بارہویں صدی عیسوی میں لکھے گئے ایک ساٹھ صفحے کے عربی ناول ” حئ ابن یقزان ” کے بارے میں ہے جسے اندلس کے عظیم فلسفی ابن طفیل نے لکھا اور یاد رہے کہ ابن طفیل کی یہ واحد تحریر ہے جو مکمل حالت میں ہم تک پہنچی ہے۔۔۔ مغربی محقق ٹام ورد کے بقول یورپ کا کوئی ایسا فلسفی یا ادیب نہیں ہے جس پر بلاواسطہ یا براہ راست نو سو برس پیشتر لکھے گئے . ابن طفیل کے اس ناول کا اثر نہ ہوا ہو اور وہ اس طویل فہرست میں ملٹن، والٹیئر، روسو اور سپائی نوزا کو بھی شامل کرتا ہے ،

بلکہ سپائی نوزا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے بھی ” حئ ابن یقزان ” کا ایک ترجمہ کیا۔۔۔سولہویں صدی میں اس ناول کا ترجمہ ڈچ زبان میں ہوا۔۔۔ آخر تقریباً آٹھ سو برس پیشتر لکھے گئے اس ناول میں وہ کونسا ایسا طلسم ہے جس نے پورے یورپ کے فلسفیوں اور ادیبوں کو متاثر کیا۔۔۔ اصل میں ابن طفیل اور اس کے عہد کے بیشتر مفکر اس فلسفے کے قائل تھے کہ انسان کو حقائق یا سچ تک پہنچنے کے لیے صرف اپنے غور و فکر اور مشاہدے پر انحصار کرنا چاہیے، اس سلسلے میں اسے کسی مرشد یا تحریر کا سہارا نہیں لینا چاہیے اور یہ ناول اسی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔۔۔ابن طفیل ایک ایسے جزیرے کا تذکرہ کرتا ہے جو ہندوستان کے ساحل کے قریب ہے اور عام طور پر خیال ہے کہ اس کے ذہن میں سری لنکا تھا۔۔۔ اس جزیرے میں موسموں، سورج کی روشنی، حدت اور نمی کا ایک ایسا آمیزہ ہے جس کی وجہ سے انسان کا ظہور ہو جاتا ہے ماں باپ کے بغیر۔۔۔ ابن طفیل چاہتا تھا کہ اس کا ہیرو کسی جینیاتی تسلسل کا نمائندہ نہ ہو، سراسر ایک آزاد وجود ہو لیکن اُسے خدشہ تھا کہ کہیں اس پیدائش پر مذہبی طبقہ اعتراض نہ کرے چنانچہ ناول میں ” حئ ” کا ایک پس منظر تخلیق کیا گیا .

یعنی ایک نزدیکی جزیرے میں بادشاہ کی بہن ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور پھر اس کی جان بچانے کی خاطر جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا اُس بچے کو بانس کی ایک ٹوکری میں محفوظ کر کے پانیوں میں بہا دیتی ہے، یہ ٹوکری بہتی ہوئی اس پر اسرار جزیرے کے ساحل کے ساتھ جا لگتی ہے جہاں ایک غزال ایک ہرنی اُسے ٹوکری سے نکال کر اپنے بچے کے طور پر پالتی ہے، اپنا دودھ پلاتی ہے۔۔۔ یہ بچہ ” حئ ” جنگل کے جانوروں کی طرح بدن کے ساتھ پر جوڑ لیتا ہے اور سر پر لکڑی کے سینگ لگا کر جانور ہو جاتا ہے۔۔۔ جب وہ سات برس کا ہوتا ہے تو ہرنی مر جاتی ہے۔۔۔ اُسے تجسس ہوتا ہے کہ یہ موت کیا ہے ، یہ مر کیوں گئی ہے، وہ اُسے زندہ کرنے کے لیے اُس کے بدن کو کاٹ کر اناٹومی کا علم حاصل کرتا ہے۔۔ واقف ہوتا ہے کہ نظام تنفس کیا ہوتا ہے۔۔۔ دل کی شکل کیا ہے۔۔۔ اور جب وہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے دل کے ایک خانے میں خون کے لوتھڑے ہیں جب کہ دوسرا خانہ بالکل خالی ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہاں کوئی چیز تھی جو اسے زندہ رکھتی تھی جو رخصت ہو گئی ہے یعنی روح کی نمائندگی۔۔۔ پھر وہ فزکس کی سائنس سیکھنے کے لیے مشاہدہ کرتا ہے کہ کیسے پانی بھاپ میں بدلتا ہے ،

اشیاء زمین پر گرتی ہیں، آگ کی روشنی اوپر آسمانوں کی جانب سفر کرتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کا تخلیق کرنے والا وہاں ہے۔۔۔ وہ ستاروں کی گردش کا حساب کرتا ہے۔۔۔ ایک غار میں بیٹھ کر غور کرتا ہے کہ : ” کیا یہ سب کچھ یکدم بے وجہ وجود میں آ گیا یا یہ ہمیشہ سے یہاں موجود تھا ” ۔۔ ” حئ ” اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ایک ایسی شے ہے جو کائنات اور زمانوں سے مبرا ہے، وہ انسانی ذہن کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور یہ خدا ہے۔۔۔۔ابن طفیل کے اس ناول کو ڈینئل ڈیفونے ” رابنسن کروزو ” کے روپ میں پیش کیا۔۔۔ آج کا بچوں کا کردار ٹارزن بھی ابن طفیل کے ” حئ ” سے مستعار شدہ ہے۔۔۔اُندلس کی سیاحت کے دوران مجھے ابن العربی کی جائے پیدائش مرسیہ میں قیام کرنے کا اتفاق ہوا لیکن میں خواہش کے باوجود گاڈیکس نہ جا سکا جہاں ابن طفیل پیدا ہوا تھا۔۔۔ابن طفیل اپنے ناول ’’حئ ابن یقزان‘‘ میں لکھتا ہے : ” یہ سمندر اور زمین کیا ہیں جنہیں میں اپنے آس پاس دیکھتا ہوں۔۔۔ یہ کیسے وجود میں آئے اور میں کیا ہوں اور میرے علاوہ تمام جنگلی جانور، ہم سب کہاں سے آئے ہیں؟ یقیناً ہمیں کسی خفیہ طاقت نے تخلیق کیا ہے جس نے سمندر ، زمین، آسمان اور موسم بنائے، تو وہ کون ہے ؟ ۔۔۔ یہ خدا ہے جس نے یہ کچھ تخلیق کیا “۔۔
حوالہ : تارڑ نامہ 6

اپنا تبصرہ بھیجیں