سورج کا ساتواں گھوڑا – دھرم ویر بھارتی

سورج کا ساتواں گھوڑا دھرم ویر بھارتی کا لکھا ہوا ناول ہے ۔ دھرم ویر بھارتی ہندی کے معروف صحافی ناول نگار ، کہانی کار ، ناٹک کار اور شاعر ہیں ۔ ان کے مضامین اور شاعری کے کئی مجموعے بھی چھپ چکے ہیں ۔ سورج کا ساتواں گھوڑا 1952 میں شائع ہوا ۔

اس ناول ر شیا بینیگل نے 1992 میں فلم آئی جس کو بہتر بینفیچر فلم کا نیشنل ایوارڈ ملا ۔ اس کا ہندی سے اردو میں ترجمہ ارجمند آرا صاحبہ جیسی بہترین مترجم نے کیا ہے۔ پاکستان میں اسے عکس پبلشز ن شائع کیا ہے ۔ ناول کا نام عنوان سورج کا ساتواں گھوڑا ہندو دیو مالا پر مبنی ہے جس کے مطابق سورج کا دیوتا سات گھورڑوں کے رتھ پر سوار ہو کر مشرق سے نکلتا ہے۔ ساتواں گھوڑا جو امید و رجا کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ ناول کا اسلوب سادہ اور پرانا ہے ۔ کہانی بیان کرنے کا انداز بالکل الف لیلوی کہانیوں جیسا سیدھا ہے کہ ایک کہانی سے دیگر کہانیاں نکلتی ہیں ۔ ناول میں ہندی سماج اور پدرسری نظام پر طنز کیا گیا ہے ۔ ناول پڑھتے ہوئے بار بار یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایک ادیب جب اپنی ذاتی زندگی کو ناول کے طور پر یا کہانی بنا کر پیش کرتا ہے تو کیا وہ ٹھیک کر رہا ہوتا ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوستووئیسکی سے لے کر منٹو اور مارکیز سے لے کر کنڈیرا تک نے بہت سے ذاتی زندگی کے کرداروں کو اپنی کہانیوں کا حصہ بنایا ہے ۔ لیکن کیا ایسا کرنا اخلاقی طور پر درست ہے ؟ کیا ایک ادیب کسی شخص کی حقیقی زندگی کو بغیر اجازت کے اپنی کہانی میں استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے؟

ناول میں ان جزبات کی عکاسی کی گئی ہے جو ایک انسان پر اپنی زندگی کے تاریک گوشوں کو دنیا کے سامنے دکھائے جانے کے بعد طاری ہوتے ہیں ۔ والدین اور اور اولاد کے درمیان تعلقات کی تلخی کو ناول میں نمایاں کر کے دکھایا گیا ہے ۔ اولاد کی نافرمانی اور والدین کے ساتھ بدسلوکی کے پیچھے کہیں نا کہیں والدین کی اپنی ناقص تربیت کا قصور ضرور ہوتا ہے ۔ اگر والدین کی اپنی ہی زندگی تلخیوں بھری ہو تو اولاد اس سے ضرور متاثر ہوتی ہے ۔ یہ ناول برصغیر کے قدیم سماجی رویوں ، انسانی تعلقات اور ڈرامہ انڈسٹری میں پائی جانے والی منافقتوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں