حضرت نوح علیہ السلام

آدم علیہ السلام کے وفات پاجانے کے تقریباً ایک ہزار سال بعد جبکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید سے نا آشنا ہو گئے تھے۔ حقیقی معبود کی جگہ ان کے خود ساختہ معبودوں نے لے لی تو اللہ رب العزت نے ان کی رشد و ہدایت کے لیے نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔
● اصل نام نوح :: نوح علیہ السلام کا اصل نام شاکر، سَکَن یا عبد الغفار تھا۔ آپ کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ (معارف القرآن )
● نسب :: آپ کا نسب آٹھویں پشت میں آدم علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے۔ آپ کا وطن عراق اور موصل کے شمال میں آرمینیہ کی سرحد پر واقع ہے۔ آدم علیہ السلام کے بعد آپ پہلے نبی تھے کہ جن کو رسالت سے نوازا گیا اس وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی۔
● نبی اور رسول :: شریعت اسلامیہ میں نبی اس ہستی کو کہتے ہیں جسے حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے چن لیا ہو اور وہ براہ راست اللہ سے ہم کلام ہوتی ہو۔ رسول اس نبی کو کہا جاتا ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے نئی شریعت اور کتاب بھیجی گئی ہو۔ یاد رہے! کہ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے مگر ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔ نبی اور رسول کی یہ تقسیم ہم انسانوں کو سمجھانے کے لیے ہے ورنہ جو فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتا ہے اس کو رسول کہہ دینا اس کے منافی نہیں ہے۔

● توحید کی دعوت :: حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت سے قبل قوم خدا کی توحید یعنی ہدایت کے رستے سے ہٹ چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی بجائے خود ساختہ بت معبود، حاجت روا اور مشکلات پڑنے پر مشکل کشا سمجھے جانے لگے۔ غیر اللہ کی پرستش ان کا شعار تھا۔ اس زمانے میں پانچ بزرگ جو اللہ کی توحید کے پرستار تھے جن کے نام یہ ہیں: وَدْ، سواع، یغوث، یعوق، نسر، جب یہ فوت ہوئے تو لوگوں نے ان کی قبروں پر نشان کھڑے کر دیئے۔ پھر آستانے بنا دیئے جب ان مشرکوں کی نسل بھی ختم ہوگئی تو نئے آنے واے لوگوں نے ان اہل قبور کو مشکل کشا اور حاجت روا یقین کرتے ہوئے ان سے مرادیں مانگنی شروع کردیں۔ اور شرک کی دلدل میں دھنستے ہی چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان لوگوں کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا ۔ آپ کمرکس کر میدان میں آئے اور مشرکوں کو سمجھانا شروع کیا۔ نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں کئی جگہ پر آیا ہے بلکہ ایک مکمل سورت (سورت نوح ) آپ کے نام سے منسوب بھی ہے۔ اسی سورت میں ذکر ہے کہ آپ دن رات مشرکوں کو شرک سے باز آجانے اور ایک اللہ کے آگے جھکنے کی دعوت میں ایک کر دیئے۔

ابلیس بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت تو پہلے ہی موجود تھا نے آپ کی تبلیغ سے ان لوگوں کو دور رکھنے میں توانائیاں صرف کر دیں۔ نوح علیہ السلام جب مشرکوں کو وعظ فرماتے تو وہ لوگ اپنے آپ کو کپڑوں میں لپیٹ لیتے۔ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے مگر آپ اللہ کی توحید سنانے سے باز نہ آئے حتی کہ مشرک انگلیوں پر کپڑے لپیٹ کر کانوں میں ٹھونس لیتے۔ نوح علیہ السلام نے صدیوں تک لوگوں کو سمجھایا۔ مشرک آپ کی تکذیب کرتے رہے۔ رب العالمین نے قوم نوح پر بارش روک لی۔ ان کی عورتوں کو بانجھ کر دیا، مویشی ہلاک ہو گئے، اب نوح علیہ السلام نے قوم کو استغفار کا حکم دیا تاکہ مشکلات ختم ہوں، سورت نوح کی آیت نمبر 10اس پر شاہد ہے سرکش قوم اپنے کفر و شرک پر اڑی رہی۔ نوح علیہ السلام نے انتہائی کوشش کی کہ بد بخت قوم سمجھ جائے اور رحمت الٰہی کی آغوش میں آجائے مگر قوم نے نہ مانا بغض و عناد میں ڈوبی رہی۔ آپ کو ہر طرح سے ستایا گیا۔ قوم کے سرداروں نے عوام سے صاف صاف کہہ دیا کہ تم ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر جیسے بتوں کی پرستش سے پیچھے نہ ہٹنا۔ المختصر جب نوح علیہ السلام قوم کو نو سو پچاس سال تک دن رات سمجھانے کے بعد مایوس ہو گئے۔

حضرت نوح علیہ السلام دن رات اپنی قوم کے لیے روتےاور نوحہ کرتے۔ دعوت تبلیغ کا ان پر کوئی اثر نہ دیکھا ، اللہ تعالیٰ نے بھی وحی کی کہ جنہوں نے اہمان لانا تھا لا چکے اب مزید کوئی ایمان لانے والا نہیں اور آپ ان کی حرکات پر غم نہ کریں۔ اب اللہ تعالیٰ کے اس اولو العزم پیغمبر نے رب کے حضور دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے ۔ سورت نوح آیت نمبر 20.27۔۔۔ اے اللہ ! کافروں میں سے کسی کو بھی زمین پر نہ چھوڑ اگر تو ان کو یونہی چھوڑ دےگا تو یہ بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل بھی ان ہی کی طرح نا فرمان ہو گی۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو خدا کا پیغام سناتے رہے مگر ان کی بدنصیب قوم ایمان نہیں لائی بلکہ طرح طرح سے آپ کی تحقیر و تذلیل کرتی رہی اور قسم قسم کی اذیتوں اور تکلیفوں سے آپ کو ستاتی رہی یہاں تک کہ کئی بار ان ظالموں نے آپ کو اس قدر زدو کوب کیا کہ آپ کو مردہ خیال کر کے کپڑوں میں لپیٹ کر مکان میں ڈال دیا؛ مگر آپ پھر مکان سے نکل کر دین کی تبلیغ فرمانے لگے۔ اسی طرح بار ہا آپ کا گلا گھونٹتے رہے یہاں تک کہ آپ کا دم گھٹنے لگتا اور آپ بے ہوش ہوجاتے مگر ان ایذاؤں اور مصیبتوں پر بھی آپ یہی دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے میرے پروردگار! تو میری قوم کو بخش دے اور ہدایت عطا فرما کیونکہ یہ مجھ کو نہیں جانتے ہیں۔

اور قوم کا یہ حال تھا کہ ہر بوڑھا باپ اپنے بچوں کو یہ وصیت کر کے مرتا تھا کہ نوح (علیہ السلام) بہت پرانے پاگل ہیں اس لئے کوئی ان کی باتوں کو نہ سنے اور نہ ان کی باتوں پر دھیان دے، یہاں تک کہ ایک دن یہ وحی نازل ہوگئی کہ اے نوح! اب تک جو لوگ مومن ہو چکے ہیں ان کے سوا اور دوسرے لوگ کبھی ہرگز ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کے بعد آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے نا امید ہوگئے اور آپ نے اس قوم کی ہلاکت کے لئے دعا فرمادی پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ایک کشتی تیار کریں چنانچہ ایک سو برس میں آپ کے لگائے ہوئے ساگوان کے درخت تیار ہو گئے اور آپ نے ان درختوں کی لکڑیوں سے ایک کشتی بنائی جو ۸۰ گز لمبی اور ۵۰ گز چوڑی تھی اور اس میں تین درجے تھے، نچلے طبقے میں درندے، پرندے اور حشرات الارض وغیرہ اور درمیانی طبقے میں چوپائے وغیرہ جانوروں کے لئے اور بالائی طبقے میں خود اور مومنین کے لئے جگہ بنائی۔ اس طرح یہ شاندار کشتی آپ نے بنائی اور ایک سو برس کی مدت میں یہ تاریخی کشتی بن کر تیار ہوئی جو آپ کی اور مومنوں کی محنت اور کاری گری کا ثمرہ تھی۔ جنہوں نے بے پناہ محنت کر کے یہ کشتی بنائی تھی۔ جب آپ کشتی بنانے میں مصروف تھے تو آپ کی قوم آپ کا مذاق اُڑاتی تھی، کوئی کہتا کہ اے نوح! اب تم بڑھئی بن گئے؟

حالانکہ پہلے تم کہا کرتے تھے کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ کوئی کہتا اے نوح! اس خشک زمین میں تم کشتی کیوں بنا رہے ہو؟ کیا تمہاری عقل ماری گئی ہے؟ غرض طرح طرح کا تمسخر و استہزاء کرتے اور قسم قسم کی طعنہ بازیاں اور بدزبانیاں کرتے رہتے تھے اور آپ ان کے جواب میں یہی فرماتے تھے کہ آج تم ہم سے مذاق کرتے ہو لیکن مت گھبراؤ جب خدا کا عذاب بصورتِ طوفان آجائے گا تو ہم تمہارا مذاق اُڑائیں گے۔
● کشتی نوح اور طوفان :: جب طوفان آگیا تو آپ نے کشتی میں درندوں، چرندوں اور پرندوں اور قسم قسم کے حشرات الارض کا ایک ایک جوڑا نر ومادہ سوار کرا دیا اور خود آپ اور آپ کے تینوں فرزند یعنی حام، سام اور یافث اور ان تینوں کی بیویاں اور آپ کی مومنہ بیوی اور ۷۲ مومنین مرد و عورت کل ۸۰ انسان کشتی میں سوار ہو گئے اور آپ کی ایک بیوی ”واعلہ” جو کافرہ تھی، اور آپ کا ایک لڑکا جس کا نام ”کنعان” تھا، یہ دونوں کشتی میں سوار نہیں ہوئے اور طوفان میں غرق ہو گئے۔
روایت ہے کہ جب سانپ اور بچھو کشتی میں سوار ہونے لگے تو آپ نے ان دونوں کو روک دیا؛ تو ان دونوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! آپ ہم دونوں کو سوار کر لیجئے، ہم عہد کرتے ہیں کہ جو شخص سَلاَمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ پڑھ لے گا ہم دونوں اس کو ضرر نہیں پہنچائیں گے تو آپ نے ان دونوں کو بھی کشتی میں بٹھا لیا۔

طوفان میں کشتی والوں کے سوا ساری قوم اور کل مخلوق غرق ہو کر ہلاک ہو گئی اور آپ کی کشتی ”جودی پہاڑ” پر جاکر ٹھہر گئی اور طوفان ختم ہونے کے بعد آپ مع کشتی والوں کے زمین پر اُتر پڑے اور آپ کی نسل میں بے پناہ برکت ہوئی کہ آپ کی اولاد تمام روئے زمین پر پھیل کر آباد ہوگئی اسی لئے آپ کا لقب ”آدم ثانی” ہے۔ (تفسیر صاوی،پ۱۲، ھود: ۳۶۔۳۹)
قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤْمِنَ مِنۡ قَوْمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿ۚ36﴾وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغْرَقُوۡنَ ﴿37﴾ وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ ۟ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیۡہِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوْمِہٖ سَخِرُوۡا مِنْہُ ؕ قَالَ اِنۡ تَسْخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنۡکُمْ کَمَا تَسْخَرُوۡنَ ﴿ؕ38﴾فَسَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخْزِیۡہِ وَیَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿39﴾
ترجمہ : اور نوح کو وحی ہوئی کہ تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں اور کشتی بنا ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے۔ بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا تم ہنستے ہو تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے۔ (پ12، ھود: 36 ۔39)

یوں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو دوسو برس پہلے ہی بذریعہ وحی مطلع کردیا تھا کہ آپ کی قوم طوفان میں غرق کردی جائے گی۔ مگر طوفان آنے کی نشانی یہ مقرر فرما دی تھی کہ آپ کے گھر کے تنور سے پانی ابلنا شروع ہوگا۔ چنانچہ پتھر کے اس تنور سے ایک دن صبح کے وقت پانی ابلنا شروع ہو گیا اور آپ نے کشتی پر جانوروں اور انسانوں کو سوار کرانا شروع کردیا پھر زور دار بارش ہونے لگی جو مسلسل چالیس دن اور چالیس رات موسلا دھار برستی رہی اور زمین بھی جا بجا شق ہو گئی اور پانی کے چشمے پھوٹ کر بہنے لگے۔ اس طرح بارش اور زمین سے نکلنے والے پانیوں سے ایسا طوفان آگیا کہ چالیس چالیس گز اُونچے پہاڑوں کی چوٹیاں ڈوب گئیں۔
چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے کہ: حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوْجَیۡنِ اثْنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ؕ وَمَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾
ترجمہ :۔یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آیا اور تنور اُبلا ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر ومادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اوراس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے۔(پ۱۲،ھود:۴۰)

اور آسمان و زمین کے پانی کی فراوانی و طغیانی کا بیان فرماتے ہوئے ارشادِ ربانی ہوا کہ:- فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْہَمِرٍ ﴿۫ۖ11﴾وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوۡنًا فَالْتَقَی الْمَآءُ عَلٰۤی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ﴿ۚ12﴾ ترجمہ: تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیئے زور کے بہتے پانی سے اور زمین چشمے کر کے بہادی تو دونوں پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی۔(پ27،القمر:11) یعنی طوفان آگیا اور ساری دنیا غرق ہو گئی۔ (تفسیر صاوی، ج۳،ص ۹۱۳،پ۱۲، ھود:۴۲) طوفان کتنا زور دار تھا اور طوفانی سیلاب کی موجوں کی کیا کیفیت تھی؟ اس کی منظر کشی قرآن مجید نے ان لفظوں میں فرمائی ہے:۔ وَ ہِیَ تَجْرِیۡ بِہِمْ فِیۡ مَوْجٍ کَالْجِبَالِ۔ترجمہ :۔اور وہ انہیں لئے جا رہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ۔(پ12،ھود:42) حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہو گئے اور کشتی طوفانی موجوں کے تھپیڑوں سے ٹکراتی ہوئی برابر چلی جا رہی تھی یہاں تک کہ سلامتی کے ساتھ کوہِ جودی پر پہنچ کر ٹھہر گئی۔ کشتی پر سوار ہوتے وقت حضرت نوح علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی تھی کہ: بِسْمِ اللہِ مَجْرٖؔؔىھَا وَمُرْسٰہَا ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿41﴾:۔اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔(پ12،ھود:41)

جودی پہاڑ:۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے تھپیڑوں میں چھ ماہ تک چکر لگاتی رہی یہاں تک کہ خانہ کعبہ کے پاس سے گزری اور کعبہ مکرمہ کا سات چکر طواف بھی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی، جو عراق کے ایک شہر ”جزیرہ” میں واقع ہے۔ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر پہاڑ کی طرف یہ وحی کی کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کسی ایک پہاڑ پر ٹھہرے گی تو تمام پہاڑوں نے تکبر کیا۔ لیکن ”جودی”پہاڑ نے تواضع اور عاجزی کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ شرف بخشا کہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔اور ایک روایت ہے کہ بہت دنوں تک اس کشتی کی لکڑیاں اور تختے باقی رہے تھے۔ یہاں تک کہ اگلی امتوں کے بعض لوگوں نے اس کشتی کے تختوں کو جودی پہاڑ پر دیکھا تھا۔محرم کی دسویں تاریخ عاشورا کے دن یہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔
چنانچہ اس تاریخ کو کشتی کی تمام مخلوق یعنی انسان اور وحوش وطیور وغیرہ سبھی نے شکرانہ کا روزہ رکھا اور حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی سے اُتر کر سب سے پہلی جو بستی بسائی اس کا نام ”ثمانین”رکھا۔ عربی زبان میں ثمانین کے معنی ”اَسی” ہوتے ہیں ،چونکہ کشتی میں ۸۰ آدمی تھے اس لئے اس گاؤں کا نام ”ثمانین”رکھ دیا گیا۔ (تفسیر صاوی، ج۳، ص ۹۱۵۔۹۱۴،پ۱۲، ھود :۴۴)

وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوۡدِیِّ وَقِیۡلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾۔۔۔ اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہری اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔(پ12،ھود:44)
● سفینۂ نوح :: رب العالمین نے نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی یہ بھی فرمایا کہ لکڑی کی ایک کشتی تیار کریں۔ آپ نے ایک کھلے میدان میں جا کر جہاں پر دور دور تک کوئی سمندر یا دریانہ تھا کشتی تیار کرنی شروع کی تو کافر لوگ ادھر سے گذرتے ہوئے آپ کا ہنسی مذاق اڑاتے کہ جب ہم غرق ہونے لگیں گے تب تو اور تیرے پیرو اس کشتی میں محفوظ رہیں گے یہ تو کیسا احمقانہ خیال ہے، نوح علیہ السلام حقیقت حال کو تو جانتے تھے کیونکہ رب العزت کے اشارے پر سب کچھ ہو رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سورت ھود آیت نمبر 37۔۔۔۔۔اے نوح! تو ہماری حفاظت میں ہماری وحی کے مطابق کشی تیار کرتے رہو آپ ان کے متعلق کچھ نہ کہنا یہ بلا شبہ غرق ہونے والے ہیں۔ آخر کار سفینہ نوح تیار ہو گیا۔ لکھا ہے کہ کشتی در اصل تین منزلہ جہاز تھا جس کی لمبائی تین سو گز، چوڑائی پچاس گز اور اونچائی تیس گز تھی۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آگیا کہ کشتی میں تمام مومنوں اور تمام جانداروں میں سے ہر ایک کا ایک ایک جوڑا بھی سوار کر لو جب وحی الٰہی کے مطابق سب لوگ اورجانور سوار ہو چکے تو آسمان سے پانی برسنا اور زمین سے چشمے ابلنا شروع ہو گئے۔

کشتی چھ ماہ طوفان میں چلتی رہی۔ بیت اللہ پر پہنچی تو سات مرتبہ طواف کیا۔ یاد رہے! اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو پانی میں غرق ہونے سے بچا لیا تھا۔ طوفان کا پانی اونچے پہاڑ سے چالیس گز بلند تھا۔ الغرض تمام منکرین غرق ہو گئے۔
● پسرِ نوح :: نوح علیہ السلام نے طوفانی عذاب کے وقت اپنے بیٹے کو کشتی میں سوار کرنا چاہا مگر وہ سوار نہ ہوا۔ پانی کی ایک موج اسے بہا کر لے گئی۔ نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کی کہ اے اللہ! وہ میرے اہل سے تھا اور تو نے تو میرے اہل کو بچانے کا وعدہ فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا۔۔۔ سورت ھود آیت نمبر45۔۔۔ فرمایا یہ لڑکا تیرے اہل سے نہ تھا کیونکہ بد کردار تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو آئندہ کے لیے تنبیہ فرمائی کہ آئندہ ایسا سوال نہ کرنا جس کے بارے علم نہ ہو۔
●کوہِ جودی :: جب حکمِ الٰہی سے طوفان تھم گیا تو یہ کشتی کوہِ جودی پر ٹھہر گئی۔ یہ پہاڑی سلسلہ فرات اور دجلہ کے درمیان واقع ہے۔ پانی جب خشک ہو گیا تو سواران کشتی نے امن وسلامتی سے خدا کی زمین پرقدم رکھا۔اسی بنا پر نوح علیہ السلام کا لقب ابو البشر ثانی یا آدم ثانی مشہور ہوا۔ کیونکہ روئے زمین پر زندہ کوئی ذی روح نہ بچا بجز ان افراد اور جانوروں کے جو کشتی میں سوار تھے۔ نوح علیہ السلام نے ایک ہزار سال کی عمر پائی۔ چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی نو سو پچاس سال پیغمبرانہ جد و جہد میں مصروف رہے۔ طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے۔

● علمی سوالات :: طوفان نوح عام تھا یا خاص؟ طوفان نوح کے متعلق دو رائے ہیں۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ یہ طوفان تمام کرۂ ارض پر نہیںآیا تھا بلکہ اس خطہ پر محدود تھا جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ اس زمانے میں انسانی آبادی بہت ہی محدود تھی۔ آدم علیہ السلام کی اولاد در اولاد کا سلسلہ اس سے زیادہ وسیع نہ ہوا تھاجو کہ اس علاقہ میں آباد تھے۔ صرف وہی مستحق عذاب تھے۔ دوسرے طبقہ کے نزدیک یہ طوفان تمام کرۂ ارض پر حاوی تھا۔ یہ طبقہ بھی کہتا ہے کہ اس زمین پر ایسے متعدد طوفان آئے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جزیرۂ جودی یا عراق عرب کی اس سر زمین کے علاوہ بلند پہاڑوں پر ایسے حیوانات کے ڈھانچے اور ہڈیاں بکثرت پائی گئیں ہیں جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتی ہیں۔
● خلاصۂ کلام :: حضرت نوح علیہ السلام کی آٹھویں پشت سے تھے۔ آپ کا وطن دجلہ اور فرات کی درمیانی وادی تھا۔ آپ کے زمانہ میں جب شرک عام ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ آپ نے صدیوں تک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف مائل کیا مگر بجز چند آدمیوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ آخر آپ کی بد دعا کے نتیجے میں پانی کا ایک عظیم طوفان آیا جس میں سارے کافر غرق ہو گئے صرف ہی بچے جو کشتی میں سوار تھے۔ دنیا میں اس وقت جتنی آبادی تھی یا قیامت تک جو بھی اس دنیا میں پیدا ہو گا سب ان کی اولاد ہے اور ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں